اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکٰوة ادا کرنے کا وقت
١. جب زکوة کے مال پر سال پورا ہو جائے تو زکوة فوراً ادا کرنا واجب ہےاگر بغیر عذر تاخیر کرے گا تو گناہگار ہو گا وہ شخص فاسق ہو گا اور اس کیگواہی قبول نہیں کی جائے گی بظاہر تھوڑی تاخیر مثلاً ایک یا دو دن کی تاخیر سےبھی گناہگار ہو گا بعض کے نزدیک فوراً سے مراد یہ ہے کہ آنے والے سال تکتاخیر نہ کی جائے
٢. نصاب کا مالک ہونے کے بعد وقت سے پہلے زکوة دے دینا جائز ہے نصاب( دو سو درہم) کا مالک ہونے سے پہلے زکوة پیشگی دینا جائز نہیں، پس وقت سےپہلے زکوة دینا تین شرطوں سے جائز ہے اول یہ کہ پیشگی زکوة دیتے وقتصاحبِ نصاب ہو دوم یہ کہ جس نصاب کی زکوة پیشگی دیدی وہ نصاب سالپورا ہونے پر بھی کامل رہے سوم یہ کہ اس درمیان میں نصاب منقطع یعنی بلکلختم نہ ہو جائے
٣. اگر صاحبِ نصاب ایک سال سے زیادہ کی زکوة پیشگی دیدے تو جائز ہےاس کی مثال یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس تین سو درہم ہیں اس نے ان میں سےدو سو درہم کی زکوة بیس سال کے لئے سو درہم دیدئے تو یہ جائز ہے
٤. جس طرح ایک نصاب کا مالک ہونے کے بعد وقت سے پہلے زکوة دینا جائزہے اسی طرح بہت سے نصابوں کی زکوة بھی وقت سے پہلے دینا جائز ہے لیکنان سب نصابوں کا جنس واحد سے ہونا ضروری ہے ورنہ جائز نہیں مثلاً کسیکے پاس تین سو درہم ہیں اس نے ان میں سے سو درہم زکوة میں اس تفصیل سےدیدئے کہ موجودہ نصاب دو سو درہم کی زکوة میں پانچ درہم اور غیر موجوددرہموں یا سونے یا چاندی یا مال تجارت کے انیس نصابوں کی زکوة میں جن کےحاصل ہونے کی اس کو اسی سال میں امید ہے پچانوے درہم دیے پھر اگر وہانیس نصاب اس کو اسی سال میں حاصل ہو گئے تو یہ زکوة صحیح ہو گی اوراگر وہ غیر موجودہ نصاب اسی سال میں حاصل نہ ہوئے بلکہ آئندہ سال حاصلہوئے تو اب یہ ان کی زکوة میں شمار نہ ہو گی بلکہ ان کی زکوة علیحدہ دیناضروری ہے اور وہ سو درہم پیشگی زکوة موجودہ نصاب یعنی دو سو درہم کیبیس سال کے لئے ہو جائے گی جیسا کہ مثال ٣ میں ہے اسی طرح اگر کسی کےپاس سو درہم ضرورت سے زیادہ رکھے ہوئے ہیں اور سو درہم کہیں اور سےملنے کی امید ہے اس نے دو سو درہم کی زکوة سال پورا ہونے سے پہلے پیشگیدیدی تو یہ درست ہے لیکن اگر سال ختم ہونے پر روپیہ نصاب سے کم ہو گیا تو زکوة معاف ہو گی اور وہ دی ہوئی زکوة نفلی صدقہ ہو گی
٥. اگر کسی کے پاس دو نصاب ہیں ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا اور اسنے ان میں سے ایک کی زکوة وقت سے پہلے دیدی تو وہ دونوں سے ادا ہو گیکیونکہ یہ دونوں ایک ہی جنس ہیں اور اگر ان میں سے ایک نصاب ہلاک ہو گیا تواس صورت میں دوسرا نصاب متعین ہو جائے گا اور وہ اسی کی زکوة ہو گی
٦. اگر وقت سے پہلے کسی فقیر کو زکوة دیدی اور سال پورا ہونے سے پہلےوہ فقیر مالدار ہو گیا یا مر گیا یا مرتد ہو گیا تو وہ زکوة ادا ہو گی اس لئے کہزکوة دیتے وقت اس کا صحیح مصرف میں ہونا ضروری ہے آگے پیچھے کاکوئی اعتبار نہیں
٧. اگر کسی شخص کے پاس مال نصاب تھا اس نے زکوة نہیں دی یہاں تک کہوہ بیمار ہو گیا تو اب وارثوں سے پوشیدہ زکوة دے اور اگر اس کے پاس مالنہیں ہے تو اگر اس کو یہ گمان غالب ہے کہ قرض لے کر زکوة ادا کر دے گااور پھر اس قرض کے ادا کرنے میں کوشش کرے گا اور ادا کر سکے گا ایسے آدمی کے لئے افضل یہ ہے کہ قرض لے کر ادا کرے پھر اگر قرض ادا کرنےپر قادر نہ ہوا یہاں تک کہ مر گیا تو امید ہے کہ اللّٰہ تعالٰی آخرت میں اس کاقرض ادا فرمائے گا اور اگر ادا کر سکنے کا گمان غالب نہ ہو تو افضل یہ ہےکہ قرض نہ لے اس لئے کہ صاحب قرض کی دشمنی بہت ہی سخت ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ