اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


گائے بیل اور بھینس کی زکٰوة کا بیان
گائے اور بھینس ( نر و مادہ) ایک قسم میں ہیں دونوں کا نصاب ایک ہی ہے اور اگردونوں کے ملانےسے نصاب پورا ہوتا ہو تو دونوں کو ملائیں گے مثلاً بیس گائیںہوں اور دس بھینسیں تو دونوں کو ملا کر تیس کا نصاب پورا کر لیں گے مگر زکٰوةمیں وہی جانور دیا جائے گا جس کی تعداد زیادہ ہو یعنی اگر تعداد میں گائے زیادہہوں تو زکٰوة میں گائے دی جائے گی اور بھینس زیادہ ہو تو بھینس دی جائے گیجیسا کہ مثال مذکورا میں گائے زیادہ ہیں پس گائے دی جائے گی اور اگر دونوںبرابر ہوں تو اختیار ہے چاہے جس سے ادا کر دے لیکن قسم اعلٰی میں جو جانورکم قیمت کا ہو یا قسم ادنیٰ میں جو جانور زیادہ قیمت کا ہو وہ دیا جائے گا گائےبیل بھینس اور بھینسا میں جب تک تیس سے کم ہوں زکٰوة نہیں ہے جب تیس ہوجائیں اور وہ سائمہ (جنگل میں چرنے والے) ہوں تو ایک گائے یا بھینس کا بچہ نریا مادہ دے جس کو دوسرا سال شروع ہو چکا ہو تیس کے بعد انتالیس تک اورکچھ واجب نہیں ہے اور جب چالیس پورے ہو جائیں تو جو بچہ پورے دو برس کاہو کر تیسرے میں لگ گیا ہو لیا جائے گا خواہ نر ہو یا مادہ ہو اکتالیس سےانسٹھ تک کچھ نہیں اور جب ساٹھ ہو جائیں تو ایسے دو بچے نر یا مادہ واجب ہوںگے جن کو دوسرا سال شروع ہو چکا ہو کیونکہ ساٹھ میں تیس تیس کے دو نصابہیں، ساٹھ کے بعد چالیس چالیس اور تیس تیس کا حساب کیا جائے گا اور ہرچالیسمیں ایک گائے یا بھینس کا بچہ تیسرے سال کا (دو سالہ) اور ہر تیس میں ایک بچہدوسرے سال کا( یک سالہ) واجب ہو گا یعنی ہر دس کے بعد واجب بدلتا رہے گاپس ستّر میں ایک تیسرے سال کا ایک دوسرے سال کا بچہ واجب ہو گا کیونکہ اسمیں ایک نصاب چالیس کا ہے اور ایک تیس کا ہے اور اسّی میں چالیس چالیس کےدو نصاب ہیں اس لئے تیسرے سال کے دو بچے واجب ہوں گے علی الہذا القیاسنوے میں تین بچے دوسرے سال والے اور سو میں ایک بچہ تیسرے سال اور دوبچے دوسرے سال کے واجب ہوں گے کیونکہ نوے میں تیس تیس کے تین نصابہیں اور سو میں تیس تیس کے دو اور چالیس کا ایک نصاب ہے اور اگر ایسا ہو کہدوسرے سال کے بچوں سے بھی حساب ٹھیک رہتا ہے اور تیسرے سال کے بچوںسے بھی ٹھیک رہتا ہے تو اختیار ہے دونوں میں سے جو بھی چاہے دیدے مثلاًایک سو بیس گائے بیل ہوں تو چاہے تین بچے تیسرے سال کے دیدے یا چار بچےدوسرے سال کے دیدے کیونکہ اس میں چالیس چالیس کے تین نصاب اور تیس تیسکے چار نصاب ہیں اسی طرح دو سو چالیس میں آٹھ بچے دوسرے سال کے یا چھبچے تیسرے سال کے دیدیں گائے بیل بھینس اور بھینسا کی زکٰوة میں نر و مادہ کاحکم برابر ہے جو بھی چاہے زکٰوة میں دیدے چرانے والی گائے بھینس میں کمسے کم عمر جس پر زکٰوة واجب ہوتی ہے اور جس کا زکٰوة میں لیا جانا جائز ہےیہ ہے کہ دوسرا سال شروع ہو چکا ہو، اس سے کم کا بچہ زکٰوة میں نہیں لیاجائے گا



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ